2 اگست 2018 - 15:06
ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں امریکا کی تضاد بیانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکی صدر ٹرمپ کی پیشکش کے بارے میں امریکی عہدیداروں کی تضاد بیانی کا سلسلہ جاری ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگن گیڈلی نے اپنے بیان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے تعلق سے امریکی صدر ٹرمپ کی خیال پردازیوں اور توہمات کی تکرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی یہ خواہش بدستور اپنی جگہ برقرار ہے۔تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی اور اس معاہدے سے نکلنے کے ٹرمپ کے اقدامات کا ذکرکئے بغیر علاقے میں ایران کی موجودگی اور استقامتی محاذ کے لئے ایران کی حمایت کے خلاف امریکی حکام کے الزامات کی ایک بار پھر تکرار کی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے چند روز قبل واشنگٹن میں اطالوی وزیراعظم کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعوی کیا تھا کہ وہ کہیں بھی اور کسی بھی وقت ایران کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی وزیرخارجہ پمپیئو نے ٹرمپ کے بیان کے خلاف اپنا بیان دیتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات کی شرط عائد کردی۔
ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ٹرمپ اپنے فریبی اقدامات کے تحت دس بار اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ دھونس و دھمکی، پابندی اور شعبدہ بازی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا اب امریکا کے پاس صرف یہی راستہ رہ گیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے سے نکلنے اور مذاکرات کی میز ترک کرنے کی بابت خود کو قصور وار سمجھتا رہے ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے ٹرمپ کی پیشکش کے ردعمل میں کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کی پیشکش ایک ایسے وقت کی جا رہی ہے جب امریکی حکومت نے کسی دلیل کے بغیر اور عالمی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے سے خود کو الگ کرلیا اور ایران کے خلاف غیر منصفانہ پابندیاں دوبارہ عائد کردیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش پر مبنی ٹرمپ کا یہ مکارانہ بیان ایک ایس وقت سامنے آیا ہے جب انہوں نے گذشتہ آٹھ مئی کو ایران پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کردیا تھا۔ ٹرمپ کے اس اقدام کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲